حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ،قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، الْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : میں ابن مریم سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء (علیہم السلام) علاتی بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الفضائل ٤٠ (٢٣٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٥٣٢٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٤٨ (٣٤٤٢) ، مسند احمد (٢/٤٨٢، ٥٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : انبیاء (علیہم السلام) علاتی بھائی ہیں، علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں جن کی مائیں مختلف ہوں اور باپ ایک ہو، انبیاء کی شریعتیں مختلف اور دین ایک تھا ، یا یہ مراد ہے کہ زمانے مختلف ہیں اور دین ایک ہے۔