حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ): يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ ؟ قَالَ: كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ.
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا جنتی اور جہنمی پہلے ہی معلوم ہوچکے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں اس نے کہا : پھر عمل کرنے والے کس بنا پر عمل کریں ؟ آپ نے فرمایا : ہر ایک کو توفیق اسی بات کی دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/القدر ٢ (٦٥٩٦) ، والتوحید ٥٣ (٧٥٥١) ، صحیح مسلم/القدر ١ (٢٦٤٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٢٧، ٤٣١) (صحیح )