حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ (ﷺ) فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ: تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی لائق شان حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا : میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں، کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا نہ ہو، نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا، لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات بتارہا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی : وہ کانا ہوگا اور اللہ کانا نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفتن ٢٦ (٧١٢٧) ، صحیح مسلم/الفتن ١٩ (٢٩٣١) ، سنن الترمذی/الفتن ٥٦ (٢٢٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٣٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٣٥، ١٤٩) (صحیح )