حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَعْنَى، قَالَا: أخبرنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، أَنَّ عَلِيًّاذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ، فَقَالَ: فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا، لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ، عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ (ﷺ)، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْهُ ؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ.
عبیدہ سے روایت ہے کہ علی (رض) نے اہل نہروان ١ ؎ کا ذکر کیا اور کہا : ان میں چھوٹے ہاتھ کا ایک آدمی ہے، اگر مجھے تمہارے اترانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی زبان سے کس چیز کا وعدہ کیا ہے ان لوگوں کے لیے جو ان سے جنگ کریں گے، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : کیا آپ نے اسے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں رب کعبہ کی قسم۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الزکاة ٤٨ (١٠٦٦) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٢ (١٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٣٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٨٣، ٩٥، ١٤٤، ١٥٥، ١١٣، ١٢١، ١٢٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بغداد اور واسط کے درمیان تین گاؤں ہیں جن میں ایک اونچائی پر ہے دوسرا درمیان میں اور تیسرا نشیب میں ، اسی جگہ امیر المومنین علی (رض) نے خوارج کے ساتھ جنگ کی۔