حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْروٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ، فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) وَكَلَّمَهُ، فَلَمَّا خَرَجَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمَّا اسْتَأْذَنَ ؟ قُلْتَ: بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ، فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطْتَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ. حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَتْ: فَقَالَ، تَعْنِي النَّبِيَّ (ﷺ): يَا عَائِشَةُ، إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ الَّذِينَ يُكْرَمُونَ اتِّقَاءَ أَلْسِنَتِهِمْ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا : اپنے کنبے کا برا شخص ہے جب وہ اندر آگیا، تو رسول اللہ ﷺ اس سے کشادہ دلی سے ملے اور اس سے باتیں کیں، جب وہ نکل کر چلا گیا تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جب اس نے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا : اپنے کنبے کا برا شخص ہے، اور جب وہ اندر آگیا تو آپ اس سے کشادہ دلی سے ملے آپ نے فرمایا : عائشہ ! اللہ تعالیٰ کو فحش گو اور منہ پھٹ شخص پسند نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٧٥٥) (حسن صحیح ) اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ (رض) سے یہی واقعہ مروی ہے، وہ کہتی ہیں آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عائشہ ! لوگوں میں سب سے بدترین لوگ وہ ہیں وہ جن کا احترام و تکریم ان کی زبانوں سے بچنے کے لیے کیا جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٥٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١١١) (ضعیف الإسناد )