حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ)مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): دَعْهُ، فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ انصار کے ایک شخص پر سے گزرے، وہ اپنے بھائی کو شرم و حیاء کرنے پر ڈانٹ رہا تھا (اور سمجھا رہا تھا کہ زیادہ شرم کرنا اچھی بات نہیں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ، شرم تو ایمان کا ایک حصہ ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ١٦ (٢٤) ، سنن النسائی/الإیمان ٢٧ (٥٠٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٩١٣) وقد أخرجہ : صحیح مسلم/ الإیمان ١٢ (٣٦) ، سنن الترمذی/الإیمان ٧ (٢٦١٨) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٥٨) ، موطا امام مالک/حسن الخلق ٢ (١٠) ، مسند احمد (٢/٥٦، ١٤٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اگرچہ وہ ایک طبعی خصلت ہے لیکن قانون شرع کے مطابق اس کا استعمال قصد اکتساب اور علم کا محتاج ہے۔