حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنِ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ الْأَعْمَشُ: وَقَدْ سَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ الْأَعْمَشُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: التُّؤَدَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا فِي عَمَلِ الْآخِرَةِ.
سعد (رض) کہتے ہیں کہ تاخیر اور آہستگی ہر چیز میں (بہتر) ہے، سوائے آخرت کے عمل کے ١ ؎۔ اعمش کہتے ہیں میں یہی جانتا ہوں کہ یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے یعنی مرفوع ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٩٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ نیک کاموں میں تاخیر اور التواء سارعوا إلى مغفرة من ربکم کے منافی ہے۔