حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) بِهَذَا الْكَلَامِ الْأَوَّلِ إِلَى قَوْلِهِ: وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَزَادَ ابْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ مَثَلَ جَلِيسِ الصَّالِحِ وَسَاقَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ.
اس سند سے بھی ابوموسیٰ (رض) سے شروع سے طعمها مر (اس کا مزا کڑوا ہے) تک اسی طرح مرفوعاً مروی ہے، اور ابن معاذ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انس (رض) نے کہا : اور ہم آپس میں کہتے تھے کہ اچھے ہم نشین کی مثال، پھر راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : صحیح البخاری/فضائل القرآں ١٧ (٥٠٢٠) ، ٣٦ (٥٠٥٩) ، والأطعمة ٣٠ (٥٤٢٧) ، والتوحید ٥٧ (٧٥٦٠) ، صحیح مسلم/المسافرین ٣٧ (٧٩٧) ، سنن الترمذی/الأمثال ٤ (٢٨٦٥) ، سنن النسائی/الإیمان ٣٢ (٥٠٤١) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٦(٢١٤) ، مسند احمد (٤/٣٩٧، ٤٠٨) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٨١) (صحیح )