حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَريُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتَايَصَفِيَّةُ، وَدُحَيْبَةُ ابنتا عليبة، قَالَ مُوسَى: بِنْتِ حَرْمَلَةَ وَكَانَتَا رَبِيبَتَيْ قَيْلَة بِنْتِ مَخْرَمَةَ وَكَانَتْ جَدَّةَ أَبِيهِمَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا، أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ (ﷺ) وَهُوَ قَاعِدٌ الْقُرْفُصَاءَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) الْمُخْتَشِعَ، وَقَالَ مُوسَى: الْمُتَخَشِّعَ فِي الْجِلْسَةِ أُرْعِدْتُ مِنَ الْفَرَقِ.
قیلہ بنت مخرمہ (رض) نے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ دونوں ہاتھ سے احتباء کرنے والے کی طرح بیٹھے ہوئے تھے تو جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیٹھنے میں مختشع اور موسیٰ کی روایت میں ہے متخشع ١ ؎ دیکھا تو میں خوف سے لرز گئی ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الإشتذان ٥٠ (٢٨١٤) ، الشمائل (٦٦) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٤٧) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : ان دونوں لفظوں میں سے پہلا باب افتعال، اور دوسرا باب تفعل سے ہے، دونوں کے معنیٰ عاجزی اور گریہ وزاری کرنے والا ہے۔ ٢ ؎ : یہ نور الٰہی کا اجلال تھا کہ عاجزی کے باوجود رسول اللہ ﷺ کا رعب دل میں اتنا زیادہ سما گیا۔