حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ (ﷺ): قَدْ أَجَبْتُكَ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي سَائِلُكَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اس نے اسے مسجد میں بٹھایا پھر اسے باندھا، پھر پوچھا : تم میں محمد کون ہے ؟ رسول اللہ ﷺ اس وقت ان (لوگوں) کے بیچ ٹیک لگائے بیٹھے تھے، ہم نے اس سے کہا : یہ گورے شخص ہیں جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں، پھر اس شخص نے آپ ﷺ سے کہا : اے عبدالمطلب کے بیٹے ! تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : میں نے تمہاری بات سن لی، (کہو کیا کہنا چاہتے ہو) ، تو اس شخص نے کہا : محمد ! میں آپ سے پوچھتا ہوں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٦ (٦٣) ، سنن النسائی/الصیام ١ (٢٠٩٤) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٤ (١٤٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الإیمان ٣ (١٠) ، سنن الترمذی/الزکاة ٢ (٦١٩) ، مسند احمد (٣/١٤٣، ١٩٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٠ (١٤٧٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مسجد میں داخل ہونے والا شخص مشرک تھا، نبی اکرم ﷺ نے اسے مسجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کیا۔