حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: الْيَهُودُ أَتَوْا النَّبِيَّ (ﷺ) وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فِي رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ زَنَيَا مِنْهُمْ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ مسجد میں اپنے اصحاب میں بیٹھے ہوئے تھے تو ان یہودیوں نے کہا : اے ابوالقاسم ! ہم ایک مرد اور ایک عورت کے سلسلے میں جنہوں نے زنا کرلیا ہے ١ ؎ آئے ہیں (تو ان کے سلسلہ میں کیا حکم ہے ؟ ) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٤٩٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٧٩) ویأتی ہذا الحدیث فی الأقضیة برقم (٣٦٢٤، ٣٦٢٥) ، وفی الحدود برقم (٤٤٥٠، ٤٤٥١) (ضعیف) (رجل مزینہ مجہول ہے ) وضاحت : ١ ؎ : باب کی ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کافر بوقت ضرورت مسجد میں داخل ہوسکتا ہے۔