حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ أَبِي ضَمْضَمٍ، قَالُوا: وَمَنْ أَبُو ضَمْضَمٍ، قَالَ: رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: عِرْضِي لِمَنْ شَتَمَنِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَمِّيِّ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَصَحُّ.
عبدالرحمٰن بن عجلان کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ابوضمضم کی طرح ہو لوگوں نے عرض کیا : ابوضمضم کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک شخص تھا پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ( عرضي على عبادک ) کے بجائے ( عرضي لمن شتمني ) (میری آبرو اس شخص کے لیے صدقہ ہے جو مجھے برا بھلا کہے) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ہاشم بن قاسم نے روایت کیا وہ اسے محمد بن عبداللہ العمی سے، اور وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں، ثابت کہتے ہیں : ہم سے انس نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حماد کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٦٧، ١٩٢١٥) (ضعیف) (اس کے ضعیف ہونے کی وجہ ارسال ہے، تابعی یعنی ابن عجلان نے واسطہ ذکر نہیں کیا، اور وہ خود مجہول الحال ہیں )