حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ، فَقَالَ: لَا تُصَلُّوا فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ، فَإِنَّهَا مِنَ الشَّيَاطِينِ، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: صَلُّوا فِيهَا فَإِنَّهَا بَرَكَةٌ.
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اونٹ کے باڑوں (بیٹھنے کی جگہوں) میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہوں میں نماز نہ پڑھو اس لیے کہ وہ شیطانوں میں سے ہیں ١ ؎، اور آپ ﷺ سے بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہاں نماز پڑھو، اس لیے کہ یہ باعث برکت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٤، (تحفة الأشراف : ١٧٨٣، ١٦٨٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ان میں شیطانی خصلتیں ہیں۔