حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قال حَدَّثَنَا. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ مَنْصُورٌ، قال ابْنُ كَثِيرٍفِي حَدِيثِهِ، وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: أَقُولُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، فَقَالَ: إِذَا قَرَأْتَهُ عَلَيَّ فَقَدْ حَدَّثْتُكَ بِهِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ (ﷺ) صَاحِبَ هَذِهِ الْحُجْرَةِ، يَقُولُ: لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے صادق و مصدوق ابوالقاسم ﷺ کو جو اس کمرے میں رہتے تھے ١ ؎ فرماتے سنا ہے : رحمت (مہربانی و شفقت) صرف بدبخت ہی سے چھینی جاتی ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البر والصلة ١٦ (١٩٢٣) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٩١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٠١، ٤٤٢، ٤٦١، ٥٣٩) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : اشارہ ہے عائشہ (رض) کے حجرہ کی جانب جس میں نبی اکرم ﷺ رہتے تھے۔ ٢ ؎ : یعنی بدبخت اپنی سخت دلی کے باعث دوسروں پر شفقت و مہربانی نہیں کرتا جب کہ نیک بخت کا حال اس کے برعکس ہوتا ہے یعنی وہ بےرحم نہیں ہوتا۔