حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِيعَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ: عَبْدُ اللَّهِ،وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَصْدَقُهَا: حَارِثٌ، وَهَمَّامٌ، وَأَقْبَحُهَا: حَرْبٌ، وَمُرَّةُ.
ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ، انہیں شرف صحبت حاصل ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انبیاء کے نام رکھا کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب و پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں، اور سب سے سچے نام حارث و ہمام ہیں ١ ؎، اور سب سے ناپسندیدہ و قبیح نام حرب و مرہ ہیں ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الخیل ٢ (٣٥٩٥) ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٢١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٤٥) (صحیح) (اس میں تسموا باسماء الأنبیاء کا ٹکڑاصحیح نہیں ہے) (الصحیحة ١٠٤٠، ٩٠٤، والارواء ١١٧٨ وتراجع الالبانی ٤٦ ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ یہ دونوں اپنے مشتق منہ سے معنوی طور پر مطابقت رکھتے ہیں چناچہ حارث کے معنی ہیں کمانے والا ، اور ہمام کے معنی قصد و ارادہ رکھنے والے کے ہیں ، اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو قصد و ارادہ سے خالی ہو ، یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں نام سچے ہیں۔ ٢ ؎ : ان دونوں ناموں میں ان کے ذاتی وصف کے اعتبار سے جو قباحت ہے وہ بالکل واضح ہے۔