حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمِّهِ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ: أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: أَصْرَ مُكَانَ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ أَتَوْ الرَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَا اسْمُكَ، قال: أَنَا أَصْرَمُ، قَالَ: بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ.
اسامہ بن اخدری تمیمی (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے اصرم (بہت زیادہ کاٹنے والا) کہا جاتا تھا، اس گروہ میں تھا جو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا تو آپ نے اس سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا : میں اصرم ہوں، آپ نے فرمایا : نہیں تم اصرم نہیں بلکہ زرعہ (کھیتی لگانے والے) ہو، (یعنی آج سے تمہارا نام زرعہ ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٣) (صحیح )