حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: الْكَرْمَ، فَإِنَّ الْكَرْمَ: الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ، وَلَكِنْ قُولُوا: حَدَائِقَ الْأَعْنَابِ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی (انگور اور اس کے باغ کو) كرم نہ کہے ١ ؎، اس لیے کہ كرم مسلمان مرد کو کہتے ہیں ٢ ؎، بلکہ اسے انگور کے باغ کہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٦٣٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأدب ١٠١ (٦١٨٢) ، صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب ٢ (٢٢٤٩) ، مسند احمد (٢/٢٧٢، ٤٦٤، ٤٧٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : چونکہ كرم یعنی انگور سے جو شراب بنائی جاتی ہے اسے لوگ عمدہ اور بہتر سمجھتے ہیں اس لیے انگور کا نام كرم رکھنے سے آپ ﷺ نے منع فرما دیا تاکہ کبھی بھی شراب کی بہتری خیال میں نہ آئے۔ ٢ ؎ : عرب رَجُلٌ کَرْمٌ اور قَوْمٌ کَرْمٌ کہتے ہیں رَجُلٌ کَرِیْمٌ اور قَوْمٌ کِرَامٌ کے معنی میں۔