حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْرَجُلٍ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ (ﷺ)، فَعَثَرَتْ دَابَّةٌ، فَقُلْتُ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ: لَا تَقُلْ تَعِسَ الشَّيْطَانُ، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ تَعَاظَمَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الْبَيْتِ، وَيَقُولُ: بِقُوَّتِي، وَلَكِنْ قُلْ: بِسْمِ اللَّهِ، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ تَصَاغَرَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الذُّباب.
ابوالملیح ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا : میں نبی اکرم ﷺ کے پیچھے سوار تھا، کہ آپ کی سواری پھسل گئی، میں نے کہا : شیطان مرے، تو آپ نے فرمایا : یوں نہ کہو کہ شیطان مرے اس لیے کہ جب تم ایسا کہو گے تو وہ پھول کر گھر کے برابر ہوجائے گا، اور کہے گا : میرے زور و قوت کا اس نے اعتراف کرلیا، بلکہ یوں کہو : اللہ کے نام سے اس لیے کہ جب تم یہ کہو گے تو وہ پچک کر اتنا چھوٹا ہوجائے گا جیسے مکھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٦٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٥٩، ٧١) (صحیح )