حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ أَلَا وَإِنَّهَا الْعِشَاءُ، وَلَكِنَّهُمْ يَعْتِمُونَ بِالْإِبِلِ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پر أعراب (دیہاتی لوگ) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں ہرگز غالب نہ آجائیں، سنو ! اس کا نام عشاء ہے ١ ؎ اور وہ لوگ تو اونٹنیوں کے دودھ دوہنے کے لیے تاخیر اور اندھیرا کرتے ہیں ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٤٤) ، سنن النسائی/المواقیت ٢٢ (٥٤٢) ، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٣ (٧٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٥٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٠، ١٨، ٤٩، ١٤٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اسے اپنے قول ومن بعد صلاة العشاء میں عشاء سے تعبیر کیا ہے اس لئے اس کا ترک مناسب نہیں۔ ٢ ؎ : اور اس نماز کو مؤخر کرتے ہیں اسی وجہ سے اسے صلاة العتمة کہتے ہیں۔