حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ يَعْنِي لِبَيَانِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا، أَوْ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ.
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ دو آدمی ١ ؎ پورب سے آئے تو ان دونوں نے خطبہ دیا، لوگ حیرت میں پڑگئے، یعنی ان کے عمدہ بیان سے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں ٢ ؎ یعنی سحر کی سی تاثیر رکھتی ہیں راوی کو شک ہے کہ إن من البيان لسحرا کہا یا إن بعض البيان لسحر کہا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ٤٧ (٥١٤٦) ، الطب ٥١ (٥٧٦٧) ، سنن الترمذی/البر والصلة ٨١ (٢٠٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦، ٥٩، ٦٢، ٩٤، ٤/٢٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ان دونوں آدمیوں کے نام زبرقان بن بدر اور عمرو بن اہتم تھے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کی آمد کا و واقعہ ٩ ھ کا ہے۔ ٢ ؎ : یہ خوبی اگر حق کی طرف پھیرنے کے لئے ہو تو ممدوح ہوتی ہے اور اگر باطل کی طرف پھیرنے کے لئے ہو تو مذموم۔