حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا.
ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور باتیں کرنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض اشعار حكم ١ ؎ (یعنی حکمت) پر مبنی ہوتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأدب ٦٩ (٢٨٤٥) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤١ (٣٧٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٦١٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٠٩، ٣١٣، ٣٢٧، ٣٣٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہاں حُکْم ، حِکْمَتْ کے معنی میں ہے جیسا کہ آیت کریمہ وآتیناہ الحُکْمَ صبیّاً میں ہے۔