حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبَّرْ فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَلَا تَقُصَّهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ.
ابورزین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خواب پرندے کے پیر پر ہوتا ہے ١ ؎ جب تک اس کی تعبیر نہ بیان کردی جائے، اور جب اس کی تعبیر بیان کردی جاتی ہے تو وہ واقع ہوجاتا ہے ۔ میرا خیال ہے آپ نے فرمایا اور اسے اپنے دوست یا کسی صاحب عقل کے سوا کسی اور سے بیان نہ کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الرؤیا ٦ (٢٢٧٨) ، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ٦ (٣٩١٤) ، (تحفة الأشراف : ١١١٧٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٠، ١١، ١٢، ١٣) سنن الدارمی/الرؤیا ١١ (٢١٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی تعبیر بیان کئے جانے تک اس خواب کے لئے جائے قرار اور ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔