حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ كَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ، وَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ.
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے آج رات دیکھا جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہوں، اور ہمارے پاس ابن طاب ١ ؎ کی رطب تازہ (کھجوریں) لائی گئیں، تو میں نے یہ تعبیر کی کہ دنیا میں بلندی ہمارے واسطے ہے اور آخرت کی عاقبت ٢ ؎ بھی اور ہمارا دین سب سے عمدہ اور اچھا ہوگیا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرؤیا ٤ (٢٢٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٣١٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٨٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ابن طاب ایک قسم کی کھجو رہے ، اس سے دین کی عمدگی اور پاکی نکلی رافع کے لفظ سے دنیا میں رفعت اور بلندی۔ ٢ ؎ : اور عقبہ عاقبت کی بھلائی۔