حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ (ﷺ)، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَتَرَكَ الْآخَرَ، قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلَانِ عَطَسَا فَشَمَّتَّ أَحَدَهُمَا، قَالَ أَحْمَدُ: أَوْ فَسَمَّتَّ أَحَدَهُمَا وَتَرَكْتَ الْآخَرَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ.
انس (رض) کہتے ہیں کہ دو لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے ان میں سے ایک کی چھینک کا جواب دیا اور دوسرے کو نہ دیا، تو آپ سے پوچھا گیا : اللہ کے رسول ! دو لوگوں کو چھینک آئی، تو آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا ؟۔ احمد کی روایت میں اس طرح ہے : کیا آپ نے ان دونوں میں سے ایک کو جواب دیا، دوسرے کو نہیں دیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : دراصل اس نے الحمد الله کہا تھا اور اس نے الحمد الله نہیں کہا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ١٢٣(٦٢٢١) ، صحیح مسلم/الزہد ٩ (٢٩٩١) ، سنن الترمذی/الأدب ٤ (٢٧٤٢) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٠ (٣٧١٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٠٠، ١١٧، ١٧٦) (صحیح )