حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْابْنِ عُمَرَ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، غَيْرَ أَنَّهُ، يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، فَإِذَا سَمِعْنَا الْإِقَامَةَ تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ أَسْمَعْ مِنْ أَبِي جَعْفَرٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات سوائے : قد قامت الصلاة کے ایک ایک بار کہے جاتے تھے، چناچہ جب ہم اقامت سنتے تو وضو کرتے پھر نماز کے لیے آتے تھے ١ ؎۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے ابو جعفر سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث نہیں سنی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الأذان ٢ (٦٢٩) ، ٢٨ (٦٦٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٤٥٥) ، مسند احمد (٢/٨٧) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یہ کبھی کبھی کا معاملہ تھا، نیز آپ ﷺ کی قرات لمبی ہوا کرتی تھی تو پہلی رکعت پالینے کا یقین رہتا تھا۔