حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) مَطَرٌ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فَحَسَرَ ثَوْبَهُ عَنْهُ حَتَّى أَصَابَهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ.
انس (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی، آپ باہر نکلے اور اپنے کپڑے اتار لیے یہاں تک کہ بارش کے قطرات آپ کے بدن پر پڑنے لگے، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ آپ نے فرمایا : اس لیے کہ یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آرہی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/صلاة الأستسقاء ٢ (٨٩٨) ، سنن النسائی/الکبري (١٨٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٣٣، ٢٦٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے رب عزوجل کا بلندی پر ہونا ثابت ہے جب کہ قرآن و احادیث اور عقائد سلف صالحین سے قطعیت کے ساتھ معلوم ہے، اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بدن پر بارش کا گرنا برکت کا باعث ہے۔