حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَرِحُوا بِشَيْءٍ لَمْ أَرَهُمْ فَرِحُوا بِشَيْءٍ أَشَدَّ مِنْهُ، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ عَلَى الْعَمَلِ مِنَ الْخَيْرِ يَعْمَلُ بِهِ وَلَا يَعْمَلُ بِمِثْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو کسی چیز سے اتنا خوش ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات سے خوش ہوئے کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! آدمی ایک آدمی سے اس کے بھلے اعمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے اور وہ خود اس جیسا عمل نہیں کر پاتا، تو آپ نے فرمایا : آدمی اسی کے ساتھ ہوگا، جس سے اس نے محبت کی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٩٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٦ (٣٦٨٨) ، الأدب ٩٥ (٦١٦٧) ، ٩٦ (٦١٧١) ، صحیح مسلم/البر والصلة ٥٠ (٢٦٣٩) ، سنن الترمذی/الزھد ٥٠ (٣٢٨٦) ، مسند احمد (٣ /١٠٤، ١١٠، ١٦٥، ١٦٨، ١٧٢، ١٧٣، ١٧٨، ٢٠٠، ٢٢١، ٢٢٨، ٢٦٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : جنت میں اس نیک آدمی کے ساتھ ہوگا، اس لئے نیک لوگوں سے محبت رکھنی چاہیے۔