حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) فِي دَيْنِ أَبِيهِ، فَدَقَقْتُ الْباب، فَقَالَ: مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ: أَنَا، قال: أَنَا أَنَا كَأَنَّهُ كَرِهَهُ.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے قرضے کے سلسلے میں گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، تو میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ نے پوچھا : کون ہے ؟ میں نے کہا : میں ہوں آپ نے فرمایا : میں، میں (کیا ؟ ) گویا کہ آپ نے (اس طرح غیر واضح جواب دینے) کو برا جانا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاستئذان ١٧ (٦٢٥٠) ، صحیح مسلم/الآداب ٨ (٢١٥٥) ، سنن الترمذی/الاستئذان ١٨ (٢٧١١) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٧ (٣٧٠٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٠٤٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٩٨، ٣٢٠، ٣٦٣) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٢ (٢٦٧٢) (صحیح )