حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، وَابْنُ عَبْدَةَ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: لَمْ يُؤْمَرْ بِهَا أَكْثَرُ النَّاسِ آيَةَ الْإِذْنِ وَإِنِّي لَآمُرُ جَارِيَتِي هَذِهِ تَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَطَاءٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِهِ.
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس (رض) کو کہتے سنا کہ آیت استیذان پر اکثر لوگوں نے عمل نہیں کیا، لیکن میں نے تو اپنی لونڈی کو بھی حکم دے رکھا ہے کہ اسے بھی میرے پاس آنا ہو تو مجھ سے اجازت طلب کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح عطاء نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ وہ اس کا (استیذان کا) حکم دیتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٨٦٩) (صحیح الإسناد )