حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالُوا لِلنَّبِيِّ: إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا، فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ: قُولُوا وَعَلَيْكُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عَائِشَةَ وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي بَصْرَة يَعْنِي الْغِفَارِيَّ.
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے آپ سے عرض کیا : اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) ہم کو سلام کرتے ہیں ہم انہیں کس طرح جواب دیں ؟ آپ نے فرمایا : تم لوگ وعليكم کہہ دیا کرو ابوداؤد کہتے ہیں : ایسے ہی عائشہ، ابوعبدالرحمٰن جہنی اور ابوبصرہ غفاری کی روایتیں بھی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/السلام ٤ (٢١٦٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٦٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الاستئذان ٢٢ (٦٢٥٧) ، استتابة المرتدین ٤ (٦٩٢٦) ، سنن الترمذی/تفسیرالقرآن ٥٨ (٣٣٠١) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٣ (٣٦٩٧) ، سنن النسائی/الیوم واللیلة (٣٨٦، ٣٨٧) ، مسند احمد (٣ /٩٩، ٢١٢، ٢١٨، ٢٢٢، ٢٧٣، ٢٧٧، ٣٠٩) (صحیح )