حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) وَنَحْنُ نُعَالِجُ خُصًّا لَنَا وَهَى، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟، فَقُلْنَا: خُصٌّ لَنَا وَهَى فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَا أَرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ.
اس سند سے بھی اعمش سے (ان کی سابقہ سند سے) یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے ہم اپنے جھونپڑے کو درست کر رہے تھے جو گرنے کے قریب ہوگیا تھا، آپ نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ ہم نے کہا : ہمارا یک بوسیدہ جھونپڑا ہے ہم اس کو درست کر رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مگر میں تو معاملہ (موت) کو اس سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھتا دیکھ رہا ہوں (زندگی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کی اصلاح کی بھی کوشش کرو) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٨٦٥٠) (صحیح )