حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: قُلْتُ: وَقَالَ مُوسَى فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، قَالَ: أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا.
عثمان بن ابی العاص (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا : تم ان کے امام ہو تو تم ان کے کمزور ترین لوگوں کی رعایت کرنا، اور ایسا مؤذن مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الأذان ٣٢ (٦٧٣) ، سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٩٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٧٠) ، مسند احمد (٤/٢١٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣٧ (٤٦٨) ، سنن الترمذی/الصلاة ٤١ (٢٠٩) (صحیح )