حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ (ﷺ)، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، شَاسِعُ الدَّارِ، وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَائِمُنِي، فَهَلْ لِي رُخْصَةٌ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي ؟ قَالَ: هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: لَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً.
عبداللہ بن ام مکتوم (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں نابینا آدمی ہوں، میرا گھر بھی (مسجد سے) دور ہے اور میری رہنمائی کرنے والا ایسا شخص ہے جو میرے لیے موزوں و مناسب نہیں، کیا میرے لیے اپنے گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم اذان سنتے ہو ؟ ، انہوں نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : (پھر تو) میں تمہارے لیے رخصت نہیں پاتا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ١٧ (٧٥٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٨٨) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الإمامة ٥٠ (٨٥١) ، مسند احمد (٣/٤٢٣) (حسن صحیح )