حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ)، قَالَ لَهُ أَوْ لِصَاحِبٍ لَهُ: إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا سِنًّا، وَفِي حَدِيثِ مَسْلَمَةَ، قَالَ: وَكُنَّا يَوْمَئِذٍ مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْعِلْمِ، وقَالَ فِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ: قَالَ خَالِدٌ: قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: فَأَيْنَ الْقُرْآنُ ؟ قَالَ: إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ.
مالک بن حویرث (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے یا ان کے ایک ساتھی سے فرمایا : جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم اذان دو ، پھر تکبیر کہو، پھر جو تم دونوں میں عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے ۔ مسلمہ کی روایت میں ہے : اور ہم دونوں علم میں قریب قریب تھے۔ اسماعیل کی روایت میں ہے : خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا : پھر قرآن کہاں رہا ؟ انہوں نے کہا : اس میں بھی وہ دونوں قریب قریب تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٧ (٦٢٨) ، ٣٥ (٦٥٨) ، ٤٩ (٦٨٥) ، ١٤٠ (٨١٩) ، والجہاد ٤٢ (٢٨٤٨) ، والأدب ٢٧ (٦٠٠٨) ، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٤٦) ، صحیح مسلم/المساجد ٥٣ (٦٧٤) ، سنن الترمذی/الصلاة ٣٧ (٢٠٥) ، سنن النسائی/الأذان ٧ (٦٣٥) ، ٨ (٦٣٦) ، ٢٩ (٦٧٠) ، والإمامة ٤ (٧٨٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٦ (٩٧٩) ، (تحفة الأشراف : ١١١٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٣٦، ٥/٥٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ٤٢ (١٢٨٨) (صحیح )