حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، بِهَذَا الْخَبَرِ، زَادَ: وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ الْوَهْمُ عِنْدَنَا مِنْ أَبِي خَالِدٍ.
اس طریق سے بھی ابوہریرہ (رض) سے إنما جعل الإمام ليؤتم به والی یہی حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً مروی ہے، اس میں راوی نے وإذا قرأ فأنصتوا جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وإذا قرأ فأنصتوا کا یہ اضافہ محفوظ نہیں ہے، ہمارے نزدیک ابوخالد کو یہ وہم ہوا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الإفتتاح ٢٠(٩٢٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣ (٨٤٦) ، (تحفة الأشراف : ١٢٣١٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٢٠) (صحیح )