حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ فَأَتَوْهُ بِسَمْنٍ وَتَمْرٍ، فَقَالَ: رُدُّوا هَذَا فِي وِعَائِهِ وَهَذَا فِي سِقَائِهِ فَإِنِّي صَائِمٌ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا، قَالَ ثَابِتٌ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ عَلَى بِسَاطٍ.
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام حرام (رض) کے پاس آئے تو ان کے گھر والوں نے گھی اور کھجور پیش کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اسے (کھجور کو) اس کی تھیلی میں اور اسے (گھی کو) اس کے برتن میں لوٹا دو کیونکہ میں روزے سے ہوں ، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور ہمیں دو رکعت نفل نماز پڑھائی تو ام سلیم (انس کی والدہ) اور ام حرام ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ ثابت کہتے ہیں : میں تو یہی جانتا ہوں کہ انس (رض) نے کہا کہ مجھے آپ ﷺ نے اپنی داہنی طرف فرش پر کھڑا کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٧٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ٧٨ (٧٢٧) ، صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (١٤٩٩) ، سنن النسائی/الإمامة ٢٠ (٨٠٤) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٥ (٩٧٥) ، مسند احمد (٣/١٦٠، ١٨٤، ٢٠٤، ٢٣٩، ٢٤٢، ٢٤٨) (صحیح )