حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ صَاحِبِ الْمَقْصُورَةِ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمًا، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ هَذَا الْعُودُ ؟ فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولُ: اسْتَوُوا وَعَدِّلُوا صُفُوفَكُمْ.
صاحب مقصورہ محمد بن مسلم بن سائب کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز انس بن مالک (رض) کے بغل میں نماز پڑھی، تو انہوں نے کہا : کیا تم کو معلوم ہے کہ یہ لکڑی کیوں بنائی گئی ہے، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے اس کا علم نہیں، انس نے کہا : رسول اللہ ﷺ اس پر اپنا ہاتھ رکھتے تھے، اور فرماتے تھے : برابر ہوجاؤ، اور اپنی صفیں سیدھی رکھو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٧٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٥٤) (ضعیف) (مصعب اور محمد بن مسلم دونوں ضعیف ہیں )