حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ. ح قَالَ أَبُو دَاوُد، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ فِي قِبْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَيُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) وَأَنَا أَمَامَهُ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ، زَادَ عُثْمَانُ: غَمَزَنِي ثُمَّ اتَّفَقَا، فَقَالَ: تَنَحَّيْ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی سمت میں لیٹی رہتی، آپ نماز پڑھتے اور میں آپ کے آگے ہوتی، جب آپ ﷺ وتر پڑھنا چاہتے (عثمان کی روایت میں یہ اضافہ ہے : تو آپ مجھے اشارہ کرتے ، پھر عثمان اور قعنبی دونوں روایت میں متفق ہیں) تو آپ ﷺ فرماتے : سرک جاؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٧٥٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٨٢) (حسن صحیح )