حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِطُولَى الطُّولَيَيْنِ ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا طُولَى الطُّولَيَيْنِ ؟ قَالَ: الْأَعْرَافُ، وَالْأُخْرَى الْأَنْعَامُ. قَالَ: وَسَأَلْتُ أَنَا ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، فَقَالَ لِي مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ: الْمَائِدَةُ، وَالْأَعْرَافُ.
مروان بن حکم کہتے ہیں کہ زید بن ثابت (رض) نے مجھ سے کہا : کیا وجہ ہے کہ تم مغرب میں قصار مفصل پڑھا کرتے ہو ؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب میں دو لمبی لمبی سورتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، مروان کہتے ہیں : میں نے (ان سے) پوچھا : وہ دو لمبی لمبی سورتیں کون سی ہیں ؟ انہوں نے کہا سورة الاعراف اور دوسری سورة الانعام ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں : میں نے ابن ابی ملیکہ سے پوچھا : تو انہوں نے مجھ سے خود اپنی طرف سے کہا : وہ سورة المائدہ اور اعراف ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٨ (٧٦٤) ، سنن النسائی/الافتتاح ٦٧ (٩٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٣٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٨٥، ١٨٧، ١٨٨، ١٨٩) (صحیح )