حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ رَجُلٍ أَوْجَزَ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فِي تَمَامٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَامَ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَوْهَمَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَسْجُدُ، وَكَانَ يَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَوْهَمَ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مختصر اور مکمل نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی، رسول اللہ ﷺ جب سمع الله لمن حمده کہتے تو کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہم لوگ سمجھتے کہ آپ ﷺ کو وہم ہوگیا ہے، پھر آپ اللہ اکبر کہتے اور سجدہ کرتے اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھتے کہ ہم لوگ سمجھتے کہ آپ ﷺ کو وہم ہوگیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣٧ (٤٧٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٢، ٦٢١) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ٦٤ (٧٠٦) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٨ (٩٨٥) ، مسند احمد (٣/٢٠٣، ٢٤٧) ، سنن الدارمی/ الصلاة ٤٦ (١٢٩٥) (صحیح )