حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: أُمِرْتُ. قَالَ حَمَّادٌ: أُمِرَ نَبِيُّكُمْ (ﷺ)أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، وَلَا يَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ حماد بن زید کی روایت میں ہے : تمہارے نبی اکرم ﷺ کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور یہ کہ آپ نہ بال سمیٹیں اور نہ کپڑا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٣٣ (٨٠٩) ، ١٣٤ (٨١٠) ، ١٣٧ (٨١٦) ، ١٣٨ (٨١٦) ، صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩٠) ، سنن الترمذی/الصلاة ٩١ (٢٧٣) ، سنن النسائی/التطبیق ٤٠ (١٠٩٤) ، ٤٣ (١٠٩٧) ، ٤٥ (١٠٩٩) ، ٥٦ (١١١٦) ، ٥٨ (١١١٤) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩ (٨٨٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢١، ٢٢٢، ٢٥٥، ٢٧٠، ٢٧٩، ٢٨٠، ٢٨٥، ٢٨٦، ٢٩٠، ٣٠٥، ٣٢٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ٧٣ (١٣٥٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نماز میں بالوں کو پگڑی وغیرہ میں سمیٹنا یا جوڑا باندھنا مکروہ ہے اسی طرح مٹی وغیرہ سے بچانے کے لئے کپڑوں کا سمیٹنا بھی درست نہیں۔