حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ صَبِيحٍ الْحَنَفِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَفَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى خَاصِرَتَيَّ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: هَذَا الصَّلْبُ فِي الصَّلَاةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَنْهَى عَنْهُ.
زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کے بغل میں نماز پڑھی، اور اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو کہا : یہ (کمر پر ہاتھ رکھنا) نماز میں صلیب (سولی) کی شکل ہے ١ ؎، اس سے رسول اللہ ﷺ منع فرماتے تھے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الافتتاح ١٢ (٨٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٢٤) ، وقد أخرجہ : حم (٢/٣٠، ١٠٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ جسے سولی دی جاتی ہے اس کے ہاتھ سولی دیتے وقت اسی طرح رکھے جاتے ہیں۔ ٢ ؎ : مؤلف نے ترجمۃ الباب میں الاقعاء کا ذکر کیا ہے لیکن اس سے متعلق کوئی روایت یہاں درج نہیں کی ہے، ابن عباس (رض) کی إقعاء والی روایت اس سے پہلے الإقعاء بين السجدتين باب (١٤٣) کے تحت گزری۔