حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ الدِّمَشْقِيُّ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ صُبَيْحِ بْنِ مُحْرِزٍ الْحِمْصِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو مُصَبِّحٍ الْمَقْرَائِيُّ، قَالَ: كُنَّا نَجْلِسُ إِلَى أَبِي زُهَيْرٍ النُّمَيْرِيِّ، وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ، فَيَتَحَدَّثُ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ، فَإِذَا دَعَا الرَّجُلُ مِنَّا بِدُعَاءٍ، قَالَ: اخْتِمْهُ بِآمِينَ، فَإِنَّ آمِينَ مِثْلُ الطَّابَعِ عَلَى الصَّحِيفَةِ. قَالَ أَبُو زُهَيْرٍ: أُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَلَحَّ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ (ﷺ) يَسْتَمِعُ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): أَوْجَبَ إِنْ خَتَمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: بِأَيِّ شَيْءٍ يَخْتِمُ ؟ قَالَ: بِآمِينَ، فَإِنَّهُ إِنْ خَتَمَ بِآمِينَ فَقَدْ أَوْجَبَ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ (ﷺ)، فَأَتَى الرَّجُلَ، فَقَالَ: اخْتِمْ يَا فُلَانُ بِآمِينَ وَأَبْشِرْ. وَهَذَا لَفْظٌ مَحْمُودٌ. قَالَ أَبُو دَاوُد: الْمَقْرَاءُ: قَبِيلٌ مِنْ حِمْيَرَ.
ابومصبح مقرائی کہتے ہیں کہ ہم ابوزہیر نمیری (رض) کے پاس بیٹھا کرتے تھے، وہ صحابی رسول تھے، وہ (ہم سے) ا چھی اچھی حدیثیں بیان کرتے تھے، جب ہم میں سے کوئی دعا کرتا تو وہ کہتے : اسے آمین پر ختم کرو، کیونکہ آمین کتاب پر لگی ہوئی مہر کی طرح ہے۔ ابوزہیر نے کہا : میں تمہیں اس کے بارے میں بتاؤں ؟ ایک رات ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہم لوگ ایک شخص کے پاس پہنچے جو نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہا تھا، نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو کر سننے لگے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اگر اس نے (اپنی دعا پر) مہر لگا لی تو اس کی دعا قبول ہوگئی ، اس پر ایک شخص نے پوچھا : کس چیز سے وہ مہر لگائے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : آمین سے، اگر اس نے آمین سے ختم کیا تو اس کی دعا قبول ہوگئی ۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد سن کر وہ شخص (جس نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تھا) اس آدمی کے پاس آیا جو دعا کر رہا تھا اور اس سے کہا : اے فلاں ! تم اپنی دعا پر آمین کی مہر لگا لو اور خوش ہوجاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٢٠٤٢) (ضعیف) (اس کے راوی صبیح بن محرز لین الحدیث ہیں )