حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ذَكَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ)كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَزَادَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ (ﷺ)يَدْعُو كَذَلِكَ، وَيَتَحَامَلُ النَّبِيُّ (ﷺ) بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُسْرَى.
عبداللہ بن زبیر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے ١ ؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے عامر نے اپنے والد کے واسطہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اسی طرح تشہد پڑھتے دیکھا ہے اور نبی اکرم ﷺ اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/السہو ٣٥ (١٢٧١) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣) (شاذ) ( ولا يحركها کے جملہ کے ساتھ شاذ ہے) قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَزَادَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ : قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرٌ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ يَدْعُو كَذَلِكَ ، وَيَتَحَامَلُ النَّبِيُّ ﷺ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُسْرَى (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے کا جملہ شاذ ہے جیسا کہ تخریج سے ظاہر ہے اس کے برخلاف صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی انگلی کو اٹھانے کے بعد اسے حرکت دے دے کر دعا کرتے اور فرماتے تھے کہ یہ شہادت کی انگلی شیطان پر لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے۔