حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ)كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ، قَالَ: قُلْتُ: حَتَّى يَقُومَ ؟ قَالَ: حَتَّى يَقُومَ.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پہلی دو رکعتوں میں یعنی پہلے تشہد میں اس طرح ہوتے تھے گویا کہ گرم پتھر پر (بیٹھے) ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا : کھڑے ہونے تک ؟ تو سعد بن ابراہیم نے کہا : کھڑے ہونے تک ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٥٨ (٣٦٦) ، سنن النسائی/التطبیق ١٠٥ (١١٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٠٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٦، ٤١٠، ٤٢٨، ٤٣٦، ٤٦٠) (ضعیف) (ابوعبیدہ کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے ) وضاحت : ١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ آخری قعدہ کی بہ نسبت پہلے قعدہ میں آپ جلدی کھڑے ہوجاتے۔