1776
Abu Dawoodحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ أَأَشْتَرِطُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَكَيْفَ أَقُولُ ؟ قَالَ: قُولِي: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، وَمَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! میں حج میں شرط لگانا چاہتی ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، (لگا سکتی ہو) ، انہوں نے کہا : تو میں کیسے کہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کہو ! لبيك اللهم لبيك، ومحلي من الأرض حيث حبستني حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں، اور میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحج ١٧ (٩٤١) ، سنن النسائی/الحج ٦٠ (٢٧٦٧) ، ( تحفة الأشراف : ٥٧٥٤، ٦٢١٤، ٦٢٣٢) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحج ١٥ (١٢٠٨) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٤ (٢٩٣٦) ، مسند احمد (١/٣٣٧، ٣٥٢) ، سنن الدارمی/المناسک ١٥ (١٨٥٢) (حسن صحیح )