538
Abu Dawoodحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَثَوَّبَ رَجُلٌ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ،قَالَ: اخْرُجْ بِنَا فَإِنَّ هَذِهِ بِدْعَةٌ.
مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر (رض) کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے ظہر یا عصر میں تثویب ١ ؎ کی، تو ابن عمر (رض) نے کہا : ہمیں یہاں سے لے چلو، اس لیے کہ یہ بدعت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧٣٩٥) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : اذان کے بعد دوبارہ نماز کے لئے اعلان کرنے کا نام ” تثویب “ ہے، اور ” تثویب “ کا اطلاق اقامت پر بھی ہوتا ہے اور فجر کی اذان میں الصلاة خير من النوم کہنے پر بھی، لیکن یہاں پہلا معنی مراد ہے۔