(۹۹۹۸)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَغَیْرُ وَاحِدٍ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَہُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَطَبَ النَّاسَ بِعَرَفَۃَ یُعَلِّمَہُمْ أَمْرَ الْحَجِّ وَکَانَ فِیمَا قَالَ لَہُمْ : إِذَا جِئْتُمْ مِنًی فَمَنْ رَمَی الْجَمْرَۃَ فَقَدْ حَلَّ لَہُ مَا حَرُمَ عَلَیْہِ إِلاَّ النِّسَائَ وَالطِّیبَ لاَ یَمَسُّ أَحَدٌ نِسَائً وَلاَ طَیِّبًا حَتَّی یَطُوفَ بِالْبَیْتِ۔
قَالَ مَالِکٌ وَحَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَنْ رَمَی الْجَمْرَۃَ ثُمَّ حَلَقَ أَوْ قَصَّرَ وَنَحَرَ ہَدْیًا إِنْ کَانَ مَعَہُ فَقَدْ حَلَّ لَہُ مَا حَرُمَ عَلَیْہِ إِلاَّ النِّسَائَ وَالطِّیبَ حَتَّی یَطُوفَ بِالْبَیْتِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۹۲۲]
(٩٩٩٨) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں کو عرفہ کے میدان میں خطبہ ارشاد فرمایا ، آپ ان کو حج کے احکام سکھا رہے تھے۔ ان میں سے بعض نے کہا : جب تم منیٰ میں رمیٔ جمار کرلو تو تمہارے لیے وہ چیز حلال ہوجاتی ہے جو اس حرام تھی۔ سوائے عورتیں اور خوشبو ۔ عورت سے ہمبستری اور خوشبو کا استعمال بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے نہ کرے۔
(ب) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جس نے جمرہ کو رمی کیا، پھر سر منڈوایا یا بال کتروائے اگر پاس قربانی ہو تو ذبح کرے۔ تو اس کے لیے وہ اشیاء جائز ہیں جو اس پر حرام تھیں لیکن عورتیں اور خوشبو بیت اللہ کے طواف کے بعد جائز ہوں گی۔