(۱۰۰۲۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ : أَرَأَیْتَ صَیْدَ الأَنْہَارِ وَقِلاَتِ السَّیْلِ أَصَیْدُ بَحْرٍ ہُوَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ثُمَّ تَلاَ عَلَیَّ {ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُہٗوَ ھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَ مِنْ کُلٍّ تَاْکُلُوْنَ لَحْمًاطَرِیًّا} الآیۃ [الفاطر: ۱۲]
[صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۸۴۲۲]
(١٠٠٢٨) ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا : آپ کا کیا خیال ہے کہ لہروں اور چھوٹے نالوں کے بارے میں، کیا وہ سمندر کا شکار ہے ؟ فرمایا : ہاں، پھر یہ آیت تلاوت کی : { ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُہٗ وَ ھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَ مِنْ کُلٍّ تَاْکُلُوْنَ لَحْمًاطَرِیًّا } الآیۃ [الفاطر : ١٢] ” ایک خوب میٹھا اس کا پانی خوشگوار اور دوسرا کھاری کڑوا اور ہر ایک میں (تم مچھلی کا شکار کرکے) تازہ گوشت کھاتے ہو۔ “