hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 1004

.

سنن البيهقي

1004
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۰۵) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ قَالَ حَدَّثَنِی الْحَکَمُ عَنْ ذَرٍّ عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ الْحَکَمُ ثُمَّ سَمِعْتُہُ مِنَ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی بِخُرَاسَانَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ فَقَالَ : إِنَّہُ أَجْنَبَ فَلَمْ یَجِدِ الْمَائَ ۔ فَقَالَ لَہُ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْکُرُ إِنَّا کُنَّا فِی سَرِیَّۃٍ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَأَجْنَبْتُ أَنَا وَأَنْتَ ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّکْتُ فِی التُّرَابِ ثُمَّ صَلَّیْتُ ، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ -فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیکَ ہَکَذَا ۔ ثُمَّ ضَرَبَ بِیَدِہِ إِلَی الأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَ فِیہِمَا ، وَمَسَحَ وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ ثُمَّ لَمْ یُجَاوِزِ الْکُوعَ۔ وَرَوَاہُ سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُرْہِبِیِّ إِلاَّ أَنَّہُ شَکَّ فِی مَتْنِہِ وَاضْطَرَبَ فِیہِ۔ [صحیح]
(١٠٠٥) حکم کہتے ہیں : میں نے خراسان میں ابن عبد الرحمن بن ابزیٰ سے سنا کہ ایک شخص سیدنا عمر (رض) کے پاس آیا اور کہا : میں جنبی ہوجاؤں اور پانی نہ ملے تو کیا کروں ؟ ، ان سے سیدنا عمار (رض) نے کہا : کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایک سریہ میں تھے۔ میں اور آپ جنبی ہوگئے، آپ نے نماز نہیں پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، پھر میں نے نماز پڑھی۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو یہ بات میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے اس طرح کافی تھا، پھر اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا لیکن گٹوں سے آگے نہیں گزرے۔
(ب) ذر بن عبداللہ راوی کو اس کے متن میں شک ہے انھوں نے اسے مضطرب قرار دیا ہے۔